Islam Mazameen

Meri Tehreer – Islam: Qadri Ka Aik Fatwa

Meri Tehreer - Islam: Qadri Ka Aik Fatwa
Tahir ul Qadri

Meri Tehreer – Islam: Qadri Ka Aik Fatwa

قادری کا ایک فتویٰ

مسلمان اور اسلام

ہر کلمہ گو مسلمان تو ہو سکتا ہے مگر ہر کلمہ گو مومن نہیں ہو سکتا!

مسلمان ہونے کے لیے یہ کافی ہے! کہ آپ ایک بار کلمہ توحید پڑھ لیں اور اپنا نام محمدعبداللہ رکھ لیں۔

مگر  اسلام کی پہچان اِس بات سے نہیں کی جاسکتی ہے !کہ مسلمان کیا کررہے ہیں، بلکہ اِس سے ہوگی کہ اسلام کیا سبق دیتا ہے۔

جبکہ مسلمان کی پہچان اُسکے اعمال سے ہوتی ہے۔! جو مسلمان اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کے ساتھ بم باندھ کر انسانیت کا خون کرتا ہے!، وہ اچھا انسان تو ہو سکتا ہی نہیں ایک اچھا مسلم کیسے ہوگا؟!۔ یہ ایک انتہائی دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ہاں اسلام کے نام پر نوجوانوں کا وہ برین واش کیا گیا ہے!، جو میری ناقص سوچ میں ایک سخت گناہ ہے۔

دنیا میں تبدیلی

دنیا کا نقشہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے! اور ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ اِس کا سب سے بڑا اثر اہلِ اسلام پر پڑ رہا ہے۔

دہشت گردی کوئی نئی بات نہیں مگر آج کل کے دور میں یہ میڈیاکے رحم و کرم کی وجہ سے عروج پر پہنچ چکی ہے !اور کچھ بڑی طاقتیں اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے اِس کو اہلِ اسلام سے وابستہ کر رہا ہے۔! اور ہماری یہ کوتاہی ہے کہ ہم ’’ایکشن‘‘ کابہتر ’’ری۔ایکشن‘‘ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔!جسکی سب سے بڑی وجہ وہ نام نہاد مولوی، امام اور علمأ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے تئیں اسلام کو استعمال کیا ہے۔

اور ایسے ایسے گروہ پیدا کیے ہیں جنہیں جنت کی نوید سنا کر اُن کا برین واش کیا جا رہا ہے۔!  ایسے نام نہاد مولوی جنکی زبان کھلتے ہی گالیوں کا انبار لگ جاتا ہے، !ایسے مولوی جو اسلام کی روح سے واقف ہوں نہ ہوں! مگر فتوے جاری کرنا ان کے لیے کوئی دقت نہیں!

فتویٰ

ایک ایسا فتویٰ وقت کی پکار تھا اور میں قادری صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے تئیں ایک احسن قدم اٹھایا ہے۔

لیکن وہ کیا ہے کہ ہر عالم اپنا اپنا عَلم بلند کیے اپنی اپنی بانسری کی تان پر اپنی اپنی دھن میں مصروف ہے۔! کیا ہی خوب ہو کہ یہ علمأ ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل کریں جس پر مل بیٹھ کر ایسے اہم نکات پر بات چیت کریں! اور پھر ایک جامع اور مفصل فیصلے کے بعدفتویٰ دیں تو یہ اسلام کی مضبوطی کی دلیل ہوگا۔!

لیکن یہ انتہائی مشکل امر ہے لہذا کسی بھی عالم کی کوئی بھی کوشش صرف اُس مکاتبِ فکر تک ہی پسند کی جائے گی! باہر نہیں! اب قادری صاحب کے اپنے قول و فعل میں زمین آسمان کا فرق ہےتو پھر انکے فتوے کو کون قبول کرے گا؟

اگر حضرت ابوبکرؓ سے دہشت گردی کے نسبت فتویٰ لیا جاتا تو یقیناً آپؓ سب سے پہلے اپنے دور کے اہم ترین صحابہ اور اہلِ دانش کو اکٹھا کرتے! اور اُس پر بحث کے بعد کوئی فتویٰ دیتے ، مگر اُن میں اور آج کل کی علمأ میں بہت فرق ہے!

مجھے ایسے مسلمانوں سے وحشت ہے

یہ تھریڈ دیکھ کر مجھے اپنا ۱۲ جولائی ۲۰۰۸ کا لکھا وہ ایک مضمون یاد آتا ہے:! ’ایسے مسلمانوں سے مجھے وحشت ہے‘! ۔ اِس تھریڈ میں کچھ مسلمانوں کا ایک عالم کی نسبت رویہ دیکھ کر مجھے پھر سے یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں! کہ مجھے ایسے مسلمانوں سے سخت وحشت ہے جو عالموں کی ذات پر نفرت کا اظہار کرتے ہیں!۔ اختلافات اپنی جگہ مگر جس انسان نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ علم !اور اُس کی ترسیل پر گزارا ہو اُس کی ذات پر انگلی اٹھانے سے پہلے سوچنا چاہیے۔

مجھے ذاتی طور پر قادری صاحب سے بہت سے اختلافات ہیں۔! میرے نزدیک اُنکی بہت ساری باتیں کنٹرورشل ہوتی ہیں۔ !مگر میں نے آج تک انہیں اس طرح مخاطب نہیں کیا جیسے ابودوجانہ یا وہ دوسرے ایک صاحب نے کیا ہے۔ !میں نہیں جانتا کہ جو تصاویر دکھائی گئی ہیں اُن میں کتنی حقیقت ہے، !کیونکہ آج کل کے دور میں تصاویر کی ملاوٹ کرنا کوئی مشکل امر نہیں رہا، !یہ ویسے ہی ہے جیسے خود قادری صاحب کی نسبت ایک تصویر دیکھنے کو ملی تھی! کہ انہوں نے انگلی کے اشارے سے چاند کے گرد ہالہ ڈالا تھا۔ !لیکن اگر ان تصاویر میں ذرا سی بھی حقیقت ہے تو یہ شرک کا مقام ہے!اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے علمأ سے بچائیں۔

دوغلاپن

یہاں پر مجھے ذاتی طور پر ایک بات بہت تکلیف دے رہی ہے !کہ جب ایک معصوم لڑکی پیغام پر کسی خاص دِن اپنے والدین کو آئی لوّ یو کا کارڈ بنا کر دیتی ہے! تو اُسکے خلاف جہاد کرنے والے جوش میں آجاتے ہیں۔ !اور جب ایک عالمِ دین جسکے قول و فعل سے دوسروں کی تربیت ہونی چاہیے !وہ سرِ عام عیسائیوں کے ساتھ وہ تہوار مناتا ہے جن کا اسلام سے قطعاً تعلق نہیں تو ہمارا اسلامی خون برف کی طرح منجمند رہتاہے!!

ہمارے قول و فعل میں بہت تضاد ہے، جہاں قول وفعل میں اتنا تضاد ہووہاں فتوے کیا کارگر ثابت ہونگے؟؟! اگر ویلنٹائن ڈے پر کسی کو مبارک دینے والے اسلام کے خلاف چلتے ہیں تو پھر قادری صاحب کی نسبت کیا حکم ہے؟

عابد بھائی نے جو باتیں نقل کی ہیں، مجھے اُن میں بھی کچھ باتوں پر اختلاف ہے۔! کاش قادری صاحب دہشت گردی کو فقط ایک اسلامی مسئلہ کہنے کی بجائے اِسے عالمی مسئلہ ثابت کرتے! اور کھلم کھلااِس بات کا اظہار کرتے کہ دنیا میں سب سے بڑی دہشت گری امریکہ سے ہو رہی ہے ل!ہٰذا اہلِ اسلام کے ساتھ ساتھ مغرب کو بھی دہشتگردی ختم کرنے کے لیے مثبت اقدام کرنے چاہیے!  Meri Tehreer – Islam: Qadri Ka Aik Fatwa

بات

میں اِس بات سے بھی متفق نہیں ہوں کہ خودکش حملوں پر فتویٰ دیا جائے! اور انہیں اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔! یاد رکھیں کہ حالتِ جنگ میں سب کچھ جائز ہے! اور خودکش حملے حالتِ جنگ میں ایک بہت اہم اور مؤثر ہتھیار ہے جن سے قادری صاحب کے اِس فتوے کے بعد اسلامی فوج کو منع کیا جا رہا ہے! یا دوسرے الفاظ میں اللہ کی راہ میں جان دینے سے روکا جا رہا ہے۔! قادری صاحب کا فتویٰ مسلمانوں میں حق کے لیے موت کی طلب سے دوری کا اعلان ہے!

اگر تو قادری صاحب نے خودکش حملے جو دہشتگردی کی صورت میں ہوں ان پر فتویٰ جاری ہونا چاہیے کہ وہ گناہ ہیں۔

قادری صاحب کا یہ کہنا کہ! ’’…اسلام میں بے گناہ یا گناہگار کسی بھی صورت انسان کے قتل کی گنجائش تک نہیں‘!سراسر غلط بات ہے! اتنا علم تو عام قاری بھی رکھتا ہے !کہ اسلام میں ایک زانی کی سزا کیا؟ سنگسار کرنا! جان لینے کے بدلے میں جان لینا! (بشرطیکہ مقتول کے ورثا قتل کی سزا میں نرمی کریں یا معاف کردیں) تو پھر قادری صاحب کی یہ بات کسی بھی طور درست نہیں! ہاں البتہ کسی جرم کے ثابت نہ ہونے کی صورت میں کسی کی جان لینا سخت گناہ ہے۔

چلیں ایک لمحہ بھر کو یہ درست مان لیا جائے،! تو پھر گستاخِ رسولؐ کے لیے قتل کے فتوے کیوں جاری کیے جاتے ہیں؟

یہ کہنا کہ ’’گنہگار کے لیے عدالتی نظام موجود ہے‘‘ تو میرا یہ پوچھنا ہے! کہ کونسا عدالتی نظام؟ وہ جو انگریز نے دیا ہے یا وہ وہ اللہ تعالیٰ نے قرآن سے واضح کیا ہے؟

کس عدالتی نظام کو آپ اسلام کہتے ہیں؟ ب!الکل درست ہے کہ اسلام میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی گنجائش نہیں، !مگر اسلام میں اِس قانون کو کہاں ماننے کی اجازت ہے جو آپ انگریزوں سے لیکر چل رہے ہیں؟

اسلام میں صرف اور صرف ایک قانون کی اجازت ہے !اور وہ قانون اللہ ہے! ایک عالمِ دین کو دنیاوی قانون کے حق میں بولنے سے اجتناب کرنا چاہیے! ورنہ میرے نزدیک وہ عالم اللہ کے قانون کی بجائے دنیاوی قانون کو جو انسانوں کا بنایا ہوا ہے، اُسے ترجیح دے رہا ہے جو کہ درست نہیں!

Meri Tehreer – Islam: Qadri Ka Aik Fatwa

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment