Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Views: Dua’a Ya Inqilaab

Views: Dua'a Ya Inqilaab
Dua ya inqilab

Views: Dua’a Ya Inqilaab

دعا یا انقلاب!

Views: Dua’a Ya Inqilaab

امریکی ظلم

امریکی دہشت گردویوں کی ایک اور بھیانک حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہوئی ہے۔! یہ تو وہ باتیں ہیں جو کسی وجہ سے دنیا کے سامنے آگئی ہیں! انکے علاوہ اور کون کون سے ظلم اور بربریت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے! یہ کوئی نہیں جانتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی ظلم و استبداد کی داستان یہی ختم نہیں ہوتی!

دعائیں

ادھرکسی مسلم ملک کے کسی ایک گمنام محلے کی ایک چھوٹی سی مسجد ہو یا اللہ کا گھر، خانہ کعبہ، ہر جگہ ہر نماز کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضوراِس انداز میں دعائیں مانگی جاتی ہیں کہ آنکھیں تو اشکبار ہوتی ہے روح تک کانپ جاتی ہے۔!

اہلِ اسلام پر مغربی جبروناانصافیوں سے چھٹکارے کی عرضیاں اللہ کے حضور پیش کی جاتی ہیں۔!

بڑے بڑے الفاظ سے اِس قدر پراثر تقاریر کی جاتی ہیں کہ مسلمانوں کا ایمان کانپ اٹھتا ہے! اور اُن کا دل و دماغ جوش میں آجاتاہے ۔!

لیکن کچھ ہی سمے بعد نعرۂ تکبیر اور نعرۂ حیدری مارتی قوم اپنے جوش کومساجدہی میں چھوڑ کر اپنے اپنے دنیاوی دھندوں میں مصروف ہوجاتی ہے اور عراقی نوجوانوں کے فاسفورس میں محلول جسموں کے زخموں کا درد بھول جاتے ہیں۔!

عذر

عذر پیش کیے جانے لگتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟! ہاں واقعی ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟! کرنے کے لیے ہمت ، استقلال، حوصلہ ،جرأت ، علم اور عقل ہونی چاہیے!

ہمارے پاس کیا ہے سوائے جوش و خروش کے؟ نعروں کے؟! دعاؤں کے؟کیا اللہ تعالیٰ محض ہماری دعاؤں پر ہمیں دشمن پر سبقت دیدے گا؟!

مانا کہ دعاؤں میں وہ طاقت ہے کہ ایک دنیا کی تقدیر بدل سکتیں ہیں! مگر دعائیں کرنے کا بھی ایک انداز ہوتا ہے ایک اسلوب ہوتا ہے، ایک شرط ہوتی ہے! اور وہ یہ کہ توحید، عملِ صالح اور اعمال کا پلڑا بھاری ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں کیوں کر سنیں جب ہم میں اتفاق رتی برابر نہیں!

دنیا ہمیں نیست سے نابود کرنے کا پلان بنا رہی ہے! اور ہم آج تک چاند کے مسئلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔!

ایک گھر میں دو دو عیدیں ہوتی ہیں، ایک مولوی دوسرے کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتا! مذہب کو اتنا الجھادیا گیا ہے کہ نوجوان مذہب سے بدظن ہوتے جارہے ہیں، جو مذہب کو سمجھنا چاہتے ہیں ان کا نام نہاد جہاد کے نام پر برین واش کیا جارہا ہے۔!

ضربِ کاری

دعاؤں کا یہ وقت نہیں! یہ ضربِ کاری کا وقت ہے!یہ جہاد کا وقت ہے!  قربانی دینے کا وقت ہے!

لیکن سب سے پہلے ہمیں اپنے ضمیر پر ضرب لگانی ہے، ہمیں جہاد کرنا ہے تو اپنے آپ کے خلاف اور خود کو پہچاننا ہے۔

اگر ہم خود کو نہیں پہچانیں گے تو ہم کسی قسم کی قربانی نہیں دے سکیں گے۔ ہماری آواز سب سے پہلے اپنے گردنواح میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف اٹھنی ہوگی، کون ہے جو اپنے گھرکا، اپنے محلے کا احتساب کرسکے؟

ہمیں آواز اٹھانی ہوگی اپنےلیڈروں کے خلاف جو دراصل امریکی امپیریل کا ایک حصہ ہیں۔ یہ وقت ہے خونی قربانی دینے کا کہ اِس کے بغیر انقلاب نہیں آسکتا۔

چند ناسوروں نے ہمیں لوٹ لیا ہے، ہمیں اپنی لٹی ہوئی خودی واپس لینی ہے اور جب ہم اپنی خودی کو پا لیں گے تو امریکی ظلم کو روکنا ممکن ہو گا۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہزاروں مسلمانوں کو اذیت دے دے کر قتل کیا جاتا رہے گا۔

دعاؤں کے لیے جو ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں انہیں اب انقلاب کے لیے اٹھنا ہے ورنہ ہم نیست سے نابود ہوجائیں گے!

مسعودؔ – کوپن ہیگن 17 نومبر 2006

Views: Dua'a Ya Inqilaab

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment