Humara Moashra Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Humara Moashra: Aham Masla

Humara Moashra: Aham Masla

Humara Moashra: Aham Masla

شادی – ایک اہم مسئلہ

ہمارا معاشرہ نمودونمائش کا معاشرہ ہے جہاں پر ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ہم اپنے اوپر بہت سی ایسی لوازمات ہاوی کرلیتے ہیں! جن سے چاہیں تو چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہو! مگر ناک کا مسئلہ ہوتا ہے کہ ناک نہ کٹ جائے چاہے اپنی سفید پوشی کا بھرم رہے یا نہ رہے! چاہے عمر ساری مقروض ہوجائیں۔ ایسے ہی مسائل میں ایک مسئلہ شادی کا ہے۔

شادی

شادی ایک ایسا مقدس فریضہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم کیا گیا ہے اور جس سے ہم دور نہیں رہ سکتے۔! مگر یہ مقدس فریضہ بھی آج کل ایک نمود و نمائش کا مظہر بن کر رہ گیا ہے۔! امیروں کے لیے نئی نئی رسمیں پیدا کرنا کوئی معیوب نہیں اور غربأ تقلید کے اِس شکنجے میں کستے چلے جا رہے ہیں۔!

امیروں کے لیے شادی بیاہ کی رسموں پر لاکھوں روپیہ بہا دینا تو کوئی بڑی بات نہیں مگر غریب کہاں جائیں! جن کے لیے پہلے جہیز بہت بڑا مسئلہ تھا اب شادی کی دیگر رسومات بھی ناگزیر بنتی چلی جارہی ہیں! جن میں مہندی سرِفہرست ہے۔!

ہر طبقہ مہندی کو دھوم دھام سے منانے کا عادی ہوتا چلا جارہا ہے! بلکہ جو خرچہ مہندی پر کیا جاتا ہے! وہ شادی پر نہیں ہوتا،! کیا مہندی کے بغیر شادی نامکمل ہے؟! کیا متوازن طریقہ سے کی جانے والی مہندی جس میں پانی طرح پیسہ نہ بہایا جائے! ، وہ مہندی مہندی نہیں ہوتی؟؟

مسئلہ

چلیں مان لیا کہ مہندی شادی کی سب سے اہم رسم ہے،! مگر آج کل جو مہندی کے لیے! دو دو دن رکھے جاتے ہیں، خصوصی لباس بنوائے جاتے ہیں،! پھر شہنشاہانہ انداز میں اہتمام، رات گزاری اور خاطرمدارت پر چونچلے کیے جاتے ہیں،! ڈھول کی تھاپ کر جسموں کو گرمایا جاتا ہے، کیا یہ سب اشد ضروری ہیں؟؟

دلہن کی تیاری تو آج کل کسی بیوٹی پالرسے نہ ہو! اور کوئی گھر میں ہی تیا ر کرلے! تو statusگرجاتا ہے، باتیں کرنے والے دلہن کو دلہن ہی نہیں مانتے،! سو نقص نکالے جاتے ہیں۔! جب تک پالر پہ ہزاروں روپے جھاڑے نہ جائیں تب تک دلہن نہیں ہوتی اور عروسی لباس بھی تو کچھ کم قیمت نہیں ہوتا،! ہزاروں میں جاکر بات بنتی ہے! اور وہ بھی صرف ایک رات کے لیے۔ مانا کہ یہ رات شاید زندگی کی سب سے حسین ترین رات ہو، ایسی رات جو ارمانوں کی رات ہو،! سپنوں کے حقیقت بننے کی رات ہو، محبت کی رات ہو۔! مگر پھربھی یہ ایک رات ایک کامیاب زندگی کی امانت نہیں ہوتی!

اخراجات

لاکھوں روپوں کے زیوارات (شادی کے دن کے لیے اور، ولیمہ کے لیے اور)،! بناؤ سنگھار، اکیلی دلہن پر ہی کتنا خرچہ آجاتاہے! اور اوپر سے مووی بنانے کا کریز! گویا مووی نہ بنے گی تو شادی نہیں ہوگی،! یہ بھی آج کل ایک عزت کا مسئلہ بن گیا ہے۔! یہ کچھ کم نہیں تھا تو مزید یہ کہ اب لاکھوں روپے لگا کر کسی گلوکار کو بھی لایا جانے لگا ہے! گو کہ یہ ابھی کچھ پہنچ رکھنے والوں تک ہے مگر تقلید ہماری رگوں میں رچی بسی ہے! وہ دن دور نہیں جب ہر فضول رسم شادی کا ایک اہم حصہ بن جائے گی،! کیونکہ ہم میں سے کوئی کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا،! اپنی چادر دیکھے بغیر پاؤں پھیلانا ہماری عادت ہے۔! امرأ کوتو شاید محسوس نہ ہوتا ہو،! مگر غریب اور متوسط گھروں میں بیٹی کی شادی کرنا ایک عمر کی محنت کے برابر ہے۔!

جہیز

اور پھر اسکے بعد ابھی شادی کی نسبت سے سب بڑی لعنت جہیز ہے جس پر ہم نے بات نہیں کی!

جہیز ہمارے معاشرے کی وہ لعنت ہے! جس کو لڑکے والے ایک ایسا فریضہ سمجھ کر مانگتے ہیں! کہ جس کے بغیر لڑکی نامکمل رہتی ہے۔! ہزار ہا بار ہم نے دیکھ کہ کئی ایک رشتے صرف اس وجہ سے ٹوٹ جاتے ہیں! کہ جہیز لڑکے والوں کی پسند کا نہیں مل رھا۔! جہیز کی کوئی بندش نہیں! جتنا جس کا ظرف ہے وہ اتنا مانگ لیتا ہے! شادی اگر ایک لڑکی لڑکے کا عمر بھر کا بندھن ہے تو اسکو کیش والدین کرواتے ہیں۔!

کیا جہیز اس بات کی ضمانت ہے کہ لڑکی اپنے گھر میں خوش و خرم رہے گی؟ اسے کوئی تکلیف نہ ہو گی؟ اسکا خیال رکھا جائے گا؟ اسکے حقوق پورے کیے جائیں گے؟ اسکی شادی تا عمر کامیاب رہے گی؟ اگر تو ہے تو ٹھیک جہیز دیں اور اگر اس میں سے کسی بھی بات کی ضمانت جہیز سے حاصل نہیں ہو سکتی تو خدارا یہ لعنت ختم کر دیجیے یا پھر لڑکی والوں کو حق دیجیے کہ اگر جہیز میں کار مانگی جا رھی ہے تو کار سے دو گنا زیادہ کا حق مہر لکھوا یا جائے! جتنا زیا جہیز انتا زیادہ حق مہر!

لڑکی کے وہ والدین جو دوسری رسومات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں! ان پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔! جہاں اس میں مانگنے والوں کا قصور ہے وہاں دینے والوں کا بھی ہے۔ کیوںکہ وہ بھی اپنی ناک کٹ جانے کے خوف سے دیتے ہیں۔ اور جہاں دینے والوں میں سکت ہو وہ اتنا دیتے ہیں تمام تر اسلامی، معاشرتی اخلاقی قدروں کا جنازہ اٹھا دیتے ہیں، اور ایسے معاشرے میں خرافات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

معلوم نہیں میانہ روی کہاں دفن ہوگئی ہے، سادگی جوہمارے مذہب کا حکم ہے اُسے کیوں بھلا بیٹھے ہیں اور نمود و نمائش کی پستیوں میں کیوں دفن ہوتے چلے جارہے ہیں۔

Humara Moashra: Aham Masla

مسعودؔ  ۲۶ مارچ ۲۰۰۵
Humara Moashra: Aham Masla

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment