Current Affairs

Meri Tehreer – Current Affairs – Disaster: Muflis Keh Jis Ghareeb Ki…

مفلس کہ جس غریب کی دنیا نہیں درست

ایک باپ نے اپنے کمسن بچے کو ذبح کرکے اپنی بیوی کو زہر دے کر خودکشی کر لی (ایک خبر)

یہ خبرسن کرچند لمحوں کے لیے انسان سکتے میں آجائے۔کیا یہ موت تھی، خودکشی یا پھرقتل؟مجرم کون ہے؟ باپ،معاشرہ،نظام یاحکومت؟۔ کیاحرام کی موت مرنے والوں پر انااللہ پڑھناچاہیے کہ نہیں، اِس بات کا فیصلہ ایک عالمِ دین پر چھوڑئیے اور یہ سوچئے کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے ایک شفیق باپ کو بھیڑئیے کا روپ دھارنا پڑا۔ یقیناًبہت سی وجوہات ہونگی۔ کچھ ڈھکی ہوئیں کچھ ظاہر۔ کچھ افواہیں کچھ حقیقتیں!سچ صرف اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات جانتی ہے۔انسان صرف حقائق پر بات کرسکتا ہے اور یہی چندحقائق ہیں جو میں اپنے آرٹیکل میں لکھنے جا رہا ہوں۔

ہمارے ملک کا ایک بہت بڑاالمیہ ہے کہ آبادی زبردست تیزی سے بڑھتی جارہی ہے، وسائل اُسی رفتارسے کم ہوتے جارہے ہیں۔ قدرتی وسائل ابھی بھی موجود ہیں مگر استعمال نہیں کیے جارہے۔ جان بوجھ کر ملک میں ٹینشن پیدا کی جارہی ہے۔دولت دولت کو کھینچتی ہے اور امیر امیرترہوتے جا رہے ہیں جبکہ غریب غریب تر۔اور غربت بہت سے جرائم کو پیداکرتی ہے۔ہمارے ملک کا سب سے بنیادی مسئلہ غربت ہے۔

ایک شماریات کے مطابق پاکستان کی ۷۰ فیصد آبادی انتہائی غریب ہے۔ باقی تیس میں سے پچیس فیصد متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جو بہت کچھ affordکرسکتے ہیں مگر پھربھی سوچ بچار کر۔ جبکہ ۵فیصدآبادی ایسی ہے جو واقعی امیر ہیں، جنہیں معلوم نہیں کہ پیسہ کہاں لگایا جائے۔اور یہی پانچ فیصد لوگ ہیں جنہوں نے نظام کو تباہ کیا ہوا ہے۔حکومت کیا کرے؟ حکومتوں نے پہلے کبھی کچھ کیا ہے جو اب کرے گی؟ستر فیصد کا معیارِزندگی درست کرنے کی نسبت ۵ فیصد کو مراعات دینا آسان ہے۔ ممبری، کونسلری،وزارتیں بھی انہیں پانچ فیصد نے حاصل کرنی ہیں، باقی عوام تو بھیڑبکریاں ہیں جو علم کی دولت سے بے بہرہ ہیں، انہیں جس طرف چاہیں ہانک لیں۔ہزارسال کے رونے کے بعد جب چمن میں ایک دیدہ ور پیدا ہوتا ہے جو اِس جاگیردارانہ نظام کو بدلنے کی کوشش کرے تو اُسے جی حضوریاں کرنے والے الفاظ کے تانے بانے میں بن کر یاتواُسے خاموش کردیتے ہیں یا پھر خاموش کرادیتے ہیں۔حکومتیں شاید بُری نہیں تھیں، جی حضوریاں کرنے والے آستین کا سانپ ثابت ہوئے ہیں۔

یہ ملک جن مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اُن میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ اِس ملک پر روزِاوّل سے ہی جاگیرداروں نے قبضہ کرلیا ہے۔ سرمایہ داروں نے اپنی اپنی من مانیاں کی ہیں۔ایک شماریات کے مطابق پاکستان کی ۲۰ فیصدآبادی پڑھی لکھی ہے۔سولہ کڑوڑ کی آبادی کے ملک میں بیس فیصدآٹے میں نمک کے برابر محسوس ہوتے ہیں۔ حالات بہت ابتر ہیں۔ ان پڑھے لکھوں میں بھی اکثر کو امریکہ ، برطانیہ،کینڈا اور یورپ ویزاسکیموں کے ذریعے اغواکرلیتے ہیں۔ جو رہ جاتے ہیں وہ دوسرے طریقوں سے باہربھاگنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ باقی بچا کچھا جو دماغ ملک میں بچ جاتا ہے وہ اپنی اپنی زندگی کو دھکا لگانے کے لیے اپنے اپنے ضمیر، ذہن اور سوچوں کو گروی رکھ دیتے ہیں اوروہ بھی جی حضوری کا فن سیکھ جاتے ہیں اور ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیتے ہیں۔ ایسے میں ملک کی تعمیر کون کرے گا؟کون ہے جو اِس فرسودہ نظام کوبدلے گا؟

شاید کوئی نہیں۔ حکومت اور بڑاطبقہ تویہ چاہے گا ہی نہیں، یوں محسوس ہوتا ہے گویا عوام بھی اِس نظام میں تبدیلی نہیں چاہتی۔کیونکہ عوام اَن پڑھ ہے اور اَن پڑھ اپنا حق لینا نہیں جانتا۔ جب تک علم کی روشنی گھر گھر نہیں پھیلے گی، نظام میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ اَن پڑھ بہت دانائی کی باتیں بھی کر لے مگر اُس کی قدر نہیں ہوتی کیو نکہ مفلس کے دماغ میں بہت سی دانائیوں کا گلا گھٹ جاتا ہے۔ انسان کی قدر علم سے ہے اور علم کی دولت سے۔ بات پھروہی آجاتی ہے،علم حاصل کرنے کیے لیے دولت کی ضرورت ہے۔حق تو یہ ہے کہ ایک مفلس بچارہ اسلام کے پانچ بنیادی اصولوں میں سے بھی کسی ایک پر بھی پورے طور پرعامل نہیں ہوسکتا۔غور کیجیے:

پہلا رکن نماز: نماز میں حضورِ قلب اور جمعیت خاطر ہونا لازمی ہے۔ مفلس کو یہ دونوں باتیں کہاں نصیب؟

دوسرارکن روزہ: روزہ کے لیے اچھی غذا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ خشک غذا کھا کر چند روز کے بعد روزہ رکھنا تو درکنار، وہ اُٹھ سکنے کے قابل بھی نہ رہے۔ روزی نہیں تو روزہ کہاں؟

تیسرارکن حج: حج سے تو مفلس قطعاً محروم رہتا ہے۔آج کل حج بھی پیسہ کی نمائش بن گیا ہے۔
چوتھارکن زکوٰۃ: مفلس زکوٰۃ کہاں سے دے وہ تو بیچارہ خود مستحقِ زکوٰۃ ہے۔
پانچواں رکن جہاد:   جہاد میں شامل ہونے کے لیے بھی اہلِ وعیال کے لیے سال چھ مہینے کے گزارے کے لائق چھوڑکرجانا ضروری ہے، مفلس تو اِس سے بھی محروم رہتا ہے۔

ان پانچوں ارکان میں آخری تین تو مفلس کو میسر نہیں پہلے دو پر بھی برائے نام عمل کرسکتا ہے۔ جب غریب معاشرے میں اس قدر پسماندہ اور بے بس ہے تو بیچارہ خودکشی نہیں کرے گا؟ اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کا گلا نہیں کاٹے گا؟ حق تو یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، مگر:

مفلس کہ جس غریب کی دنیا نہیں درست
مشکل کہ اُس کے ہاتھ سے ہو کارِدیں درست

بقلم مسعود – 27 جنوری2005

Shab-o-roz

About the author

Masood

A hard speaking straightforward person, who has a brain, which works (alhamdolillah). A writer, poet and

Add Comment

Click here to post a comment