Humara Moashra Mazameen Meri Tehreerein

2 Eidein

2 Eidein
2 Eidein

دوعیدیں

سعودی حکومت نے جمعۃ المبارک کی شام اعلان کیا کہ شوال کا چاند نظر آگیا ہے اور ہفتہ کو عیدالفطر ہوگی۔کچھ دیر بعد سعودی عرب سے ملحقہ ریاستوں سے بھی عید کے چاند کے نظر آنے کی اطلاع آنے لگی۔

اسلامی کلچرل سینٹر یوکے نے بھی اعلان کردیاکہ یو کے میں عید کا چاند نظر آگیا ہے اور ہفتہ کو عید ہوگی۔ اسی طرح دیگر یورپئین ممالک میں بھی عید ہفتے کے دن منانے کا اعلان کردیا گیا۔

پھربھی یورپ کے اکثرممالک کی کئی مساجد کے مولویوں نے ان اعلانات کو ignoreکرتے ہوئے ہفتے کے دن بھی روزہ رکھا اور ایک بار پھر مسلمانوں کو تقسیم کردیا۔
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ کی رحمتیں سمیٹنے کا مہینہ ہوتا ہے، یہ وہ مہینہ ہے جہاں سچے دل سے مانگی ہوئی دعائیں تقدیر کو بھی بدل سکتی ہیں۔ سارا مہینہ تراویح میں اللہ کا کلام پڑھنے میں گزرجاتا ہے اور ہر مسجد میں ہر مولوی اتحاد ،یکجہتی،اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔اللہ تبارک تعالیٰ کے حضورگریہ وزاری کی جاتی ہے کہ کفار کے بڑھتے ہوئے مظالم کے سامنے تمام مسلمان یکجا ہوجائیں اور اتحاد قائم ہو ،تاکہ ایک بار پھراسلام سرخرو ہو۔

مگر جونہی ۲۹ رمضان المبارک ہوتی ہے مولویوں کا اپنا اتحاد تہس نہس ہوجاتا،ہر وہ درس جو یہ ’گمراہ‘ مسلمانوں کو دیتے ہیں اُس سے خود منکر ہوجاتے ہیں اور جو اپنے من میں آئے وہی کرتے ہیں۔تمام تر تیکنیکی سہولتیں موجود ہونے کے باوجودہم آج بھی ہزارسال پیچھے ہیں۔اِن مولویوں کی جھوٹی انا اور آپس کی دشمنی مسلمانوں کو بانٹ دیتی ہے، یوں اگر ایک ہی خاندان کے کچھ افراد ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں مسجد میں عید منائی جا رہی ہے اور اُسی خاندان کے کچھ ممبر ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں عید نہیں منائی جا رہی تو یہ کس قدر اذیت ناک لمحہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے بھا ئیوں کو عید مبارک نہیں کہہ سکتے، اپنے رفقأ کو کس منہ سے عیدمبارک کہیں جبکہ وہ روزے سے ہوں؟

یہاں یورپ میں بچوں کو سکول سے عید کی چھوٹی لینی پڑتی ہے، اب سکول کی انتظامیہ آدھی کلاس کو ایک دن اور آدھی کلاس کو دوسرے دن چھوٹی دے گی؟غیرمسلموں کواسلام پر ہروقت ضرب لگانے کی فکر رہتی ہے، مگر ہم مسلمان خود ہی تو انہیں ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں،کیا یہ علمأ اور مولوی رہنمابننے کے قابل ہیں؟؟؟

مسلم ممالک میں شور و غل کیا جاتا ہے کہ امریکہ اور یورپ اسلام کے دشمن ہیں، میں کہتا ہوں کہ اسلام کے اصل دشمن نام نہاد علمأ اور مولوی ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے اسلام کو ایک کھلونا بنا رکھا ہے۔اسلام کو جتنا نقصان ان لوگوں نے پہنچایا ہے اتنا نقصان کسی اور نے نہیں پہنچایا اور نہ ہی پہنچا سکے گا۔

ہمیں ان نام نہاد علمأ اور مولویوں نے تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کر کھڑا کردیا ہے، ان کے آپس کے اختلاف نہ صرف غیرمسلموں کو ضربکاری کا موقع فراہم کررہا ہے بلکہ انتہائی تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان مولویوں کی حرکات کی وجہ سے نوجوانانِ اسلام بھی بدظن ہوتے جا رہے ہیں،عراق کی تعمیرِ نو ہوسکتی ہے مگریہ تباہی ناقابلِ برداشت ہوگی!!

آج پھر علامہ اقبال ؒ کی روح لحد میں پریشان ہوگی کہ اُن کا خواب:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کاشغر

۔ چوُر چُور ہو گیا ہے!


والسلام: مسعود ۱۳ نومبر۲۰۰۴ ۔ عیدالفطر
2 Eidein

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment