Current Affairs Meri Tehreerein

Afghanistan War: Bush Sahib Aap Hi To Dehshatgard Hain

Afghanistan War: Ameriki Darindon Ki Sa'faaki
war criminal

Afghanistan War: Bush Sahib Aap Hi To Dehshatgard Hain

بُش صاحب، آپ ہی تو دہشت گرد ہیں!

بش صاحب کہتے ہیں کہ ’’دہشت گردی کو ختم کرنا میری اولین ترجیحات میں شامل ہے‘۔
جب ایک بدمعاش ایک بستی میں جاتا ہے اور اپنی دہشت بٹھانے کی خاطر یہ اعلان کرتا ہے کہ آج کے بعد اس بستی میں کوئی بدمعاشی نہیں ہو گی، حالانکہ سب سے بڑی بدمعاشی وہی بدمعاش خودکر رہا ہوتا ہے۔ اس دنیا کو اگر ایک بستی سمجھاجائے تو بش صاحب کا ملک وہ بدمعاش ملک ہے، جو دنیا سے دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتا ہے، مگر اس دہشت گردی میں جو دہشت گردیاں وہ خود کر رہے ہیں اس کا جواب کون کس کو دے گا؟؟
افغانستان میں کون سی جنگ لڑ رہے ہیں؟ پچھلے تقریباً ایک سال سے ان کی فوج ایک پسماندہ ملک میں جو دہشت گردیاں کر رہے ہیں اسکا جواب بش صاحب کون دے گا؟اب عراق پہ جو آپ لوگوں نے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے کیا وہ دہشت گردی نہیں؟اپنی گرتی ہوئی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لیے جو چونچلہ آپ نے رچا رکھا ہے، وہ دہشت گردی کے سوا اور کیا ہے؟ جو حالات آج کل اس دنیا کے ہیں ان میں سیاست کرنا ایسا ہی ہے گویا غلاظت میں ہاتھ سَن لیے جائیں، یہ سیاست چاہے پاکستان میں ہو یا امریکہ میں، سیاستدانوں کی باتیں شیطانی باتیں ہیں، جو گناہ کو بھی خوبصورت الفاظ کالبادہ پہنا کر اس کے فعل کو اچھا قرار دیتی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بُش نے جوشِٹ بکی ہے دنیا نے اسے سچ مان لیا ہے، اور یہاں تک کہ ایک نام نہاد ادارہ، اقوامِ متحدہ، جو میری نظر میں بدمعاشوں کی پنچائیت ہے، اُس نے بھی اس بیہودہ بکواس کو تسلیم کر لیا ہے اور امریکی دہشت گردیوں کاکبھی کوئی جواب نہیں مانگا۔اقوامِ متحدہ میرے نذدیک ایک ایسی ہی پنچائیت ہے جیسی امیرانوالہ کی پنچائیت تھی، جس نے اجتماعی زیادتی کا فیصلہ سنایا تھا۔اقوامِ متحدہ پڑھے لکھے انسانوں کی بہت ہی بلند سطح پر ایک انتہائی غلیظ پنچائیت ہے، جس میں فیصلے فقط بڑی طاقتوں اور خاص طور پر امریکی نقطۂ نظر سے لکھے جاتے ہیں۔کیا آج تک اس پنچائیت(اقوامِ متحدہ) میں کسی پسماندہ قوم کو کسی بڑی قوم سے حق لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے؟؟کیا اِس پنچائیت نے آج تک امریکہ سے یہ پوچھا ہے کہ ویتنام میں انسانیت کا جو قتل کیا گیا ہے اس کا ازالہ کیا ہے؟ یہودی خبیثوں نے فلسطینیوں کا جو جو قتل کیا ہے، کبھی لبنان میں مہاجروں کے خیموں پر جو بلڈوزرز چلائے گئے ہیں، انکا ازالہ کیا ہے؟؟
آج سے سو سال بعد جب دنیا کی تایخ لکھی جائے گی تواس میں ان واقعات کو باالکل فراموش کر دیا جائے گا، گویا کبھی تاریخ میں یہ واقعات کبھی پیش ہی نہیں آئے۔تاریخ جھیل کا وہ شفاف پانی ہے جس میں قومیں اپنی سیاسی خدوخال کو دیکھتی ہیں۔مکار قوموں کی یہ عادت ہے جب وہ کسی مظلوم قوم پر سیاسی غلبہ حاصل کر لیتی ہے تو وہ اُس قوم کی تاریخ بدل دیتی ہے۔ اُس کے ہیروز کو لٹیرے اور بدمعاش بنا کر پیش کرتی ہے اور اپنے بدمعاشوں کو، دہشت گردوں کو ہیروز بنا کر پیش کرتی ہے۔
حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو ہمیں سو سال آگے جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ آج ہی کی تصویر لیجئے، امریکی اور مغربی پریس نے اوسامہ بن لادن کا جو خاکہ دنیا کو پیش کیا ہے وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ طالبان بھی اسی زُمرہ میں آتے ہیں، روسی امریکیوں سے یہ بات ضرور پوچھنا چاہتے ہوں گے کہ جب طالبان روسیوں کے خلاف افغانستان میں جنگ کر رہے تھے، تو اُس وقت ان کا پریس انہیں مجاہدین لکھتا تھا، آج وہی مجاہدین دہشت گرد ہیں۔
پریس کہیں کا بھی ہو، چاہے وہ CNN ہو ، BBC ہو یا PTV وغیرہ، جب تک موجودہ حکومت نہ چاہے کوئی خبر اُن کے خلاف نشر نہیں ہو سکتی۔ مذکورہ بالا براڈکاسٹنگ کارپوریشنز نے ۱۱ ستمبر کو اوسامہ کے نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا بہت پرچار کیا ہے اور یہ خبریں بھی لگا دیں کہ اس امر میں اوسامہ کے خلاف شہادتیں ملی ہیں ۔ عقل مند انسان صرف ایک بات پوچھتا ہے: کیا کبھی دنیا میں کسی ایک جگہ پر کسی ایک ٹی وی سٹیشن پر یہ ثبوت عوام کو دکھائے گئے ہیں جس کو عقل تسلیم کرے کہ یہ واقعی اوسامہ کا کام ہے؟؟
CNN،BBCوغیرہ پر جوکچھ دکھایا گیا ہے وہ محض مفروضے ہیں۔ کبھی میں سوچتا ہوں مفروضوں پرافغانستان پر غاصبانہ قبضہ، عراق کے خلاف چڑھائی اور سب سے بڑھ کر اسلام کو بدنام کرنا، کیا یہ سب دہشت گردی نہیں؟؟؟امریکہ دہشت گردوں کا ملک ہے کہ نہیں؟؟؟بش اور اسکی حکومت دہشت گرد ہے کہ نہیں؟؟؟؟

مسعود – ۱۸ اگست ۲۰۰۲

Afghanistan War: Bush Sahib Aap Hi To Dehshatgard Hain

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment